زکوۃ و صدقات

اسلام کا بُنیادی رُکن
زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رکن ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ   کے محبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے :’’اسلام کی بنیاد پانچ باتوں پر ہے ،اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد( صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم) اس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا ، حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔‘‘
(صحیح البخاری ،کتاب الایمان ،باب دعا ء کم ایمانکم ،الحدیث۸،ج۱،ص۱۴)
کوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ۔قرآنِ مجید فرقان حمید میں نماز اور زکوٰۃ کا ایک ساتھ 32مرتبہ ذکر آیا ہے۔(ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ، ج۳، ص۲۰۲)علاوہ ازیں زکوٰۃ دینے والا خوش نصیب دنیوی واُخری سعادتوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے ۔(جن کا ذکر اگلے صفحات میں آرہا ہے۔)
زکوٰۃ فرض ہے
زکوٰۃ کی فرضیت کتاب وسنّت سے ثابت ہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
وَاَقِیمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُواالزَّکٰوۃَ (پ ۱،البقرۃ:۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو۔
صدر الافاضل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃاللہ الھادی (اَ لْمُتَوَفّٰی۱۳۶۷ھ) اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں : ’’اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان ہے ۔‘‘
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِم بِہَا (پ۱۱، التوبۃ:۱۰۳)
ترجمۂ کنزالایمان :اے محبوب ان کے مال میں سے زکوٰۃ تحصیل کرو جس سے تم انھیں ستھرا اور پاکیزہ کردو۔
صَدْرُ الْاَفَاضِل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃاللہ الھادی (اَ لْمُتَوَفّٰی ۱۳۶۷ھ) اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں : آیت میں جو صدَقہ وارِد ہوا ہے اس کے معنٰی میں مفسِّرین کے کئی قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ صدَقہ غیر واجِبہ تھا جو بطورِ کَفّارہ کے اِن صاحبوں نے دیا تھا جن کا ذکر اُوپر کی آیت میں ہے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ اس صدَقہ سے مراد وہ زکوٰۃ ہے جو ان کے ذمّہ واجب تھی ، وہ تائب ہوئے اور انہوں نے زکوٰۃ ادا کرنی چاہی تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لینے کا حکم دیا ۔ امام ابوبکر رازی جصاص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ صدَقہ سے زکوٰۃ مراد ہے ۔ (خازن و احکام القرآن)
’’فرض‘‘ کے تین حروف کی نسبت سے
زکوٰۃ کی فرضیت کے متعلق 3روایات
(1) حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روا یت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا :’’مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس پر مامور کیا ہے کہ مَیں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک وہ یہ گوا ہی نہ دیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کو ئی سچا معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ تعا لیٰ علیہ وآلہ وسلم )خدا کے سچے رسول ہیں ،ٹھیک طرح نماز ادا کریں ، زکوٰۃ دیں ، پس اگر ایسا کر لیں تو مجھ سے ان کے مال اور جا نیں محفوظ ہو جائیں گے سوائے اس سزا کے جو اِسلام نے (کسی حد کے سلسلہ میں )ان پر لازم کر دی ہو ۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب الایمان،باب فان تابواواقامواالصلوۃ،الحدیث ۲۵،ج۱،ص۲۰)
(2) نبی کریم ،رؤف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جب حضرت سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی طر ف بھیجاتو فرمایا:ان کو بتاؤ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے مال داروں سے لے کر فقراء کو دی جا ئے ۔‘‘
(سنن الترمذی،کتاب الزکاۃ ،باب ما جاء فی کراھیۃاخذ خیار المال فی الصدقۃ ،الحدیث۶۲۵،ج۲،ص۱۲۶)
(3) حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرما تے ہیں :جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا وصالِ ظاہری ہو گیا اور حضرت سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ خلیفہ بنے اور کچھ قبا ئل عرب مرتد ہو گئے (کہ زکوٰۃ کی فرضیت سے انکار کر بیٹھے)تو حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے کہا :آپ لوگوں سے کیسے معاملہ کریں گے جب کہ رسول اللہ صلی اللہ تعا لیٰ علیہ اٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’مَیں لو گوں سے جہاد کرنے پر ما مور ہوں جب تک وہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ نہ پڑھیں۔ جس نے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کا اقرار کر لیا اس نے اپنی جان اور اپنا مال مجھ سے محفوظ کر لیا مگر یہ کہ کسی کا حق بنتا ہو اور وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمہ ہے۔‘‘ (یعنی یہ لوگ تو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنے والے ہیں ، ان پر کیسے جہاد کیا جائے گا)
حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے کہا: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مَیں اس شخص سے جہاد کروں گا جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرے گا (کہ نماز کو فرض مانے اور زکاۃ کی فرضیت سے انکار کرے)اور زکوۃ مال کا حق ہے بخدا اگر انہوں نے (واجب الادائ)ایک رسی بھی روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ تعا لیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے دور میں دیا کرتے تھے تو مَیں ان سے جنگ کروں گا۔‘‘ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعا لیٰ عنہ فرماتے ہیں :’’واﷲ! میں نے دیکھا کہ اﷲ تعالیٰ نے صدیق کا سینہ کھول دیا ہے۔ اُس وقت میں نے بھی پہچان لیا کہ وہی حق ہے ۔‘‘(صحیح البخاری ،کتاب الزکاۃ،باب وجوب الزکوۃ،الحدیث ۱۳۹۹،۱۴۰۰،ج۱،ص۴۷۲،۴۷۳)
صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۳۶۷ھ) اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نِری کلمہ گوئی اِسلام کیلئے کافی نہیں ، جب تک تمام ضروریاتِ دِین کا اِقرار نہ کرے اور امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بحث کرنا اس وجہ سے تھا کہ ان کے علم میں پہلے یہ بات نہ تھی، کہ وہ فرضیت کے منکر ہیں یہ خیال تھا کہ زکوٰۃ دیتے نہیں اس کی وجہ سے گنہگار ہوئے، کا فر تو نہ ہوئے کہ ان پر جہاد قائم کیا جائے، مگر جب معلوم ہوگیا تو فرماتے ہیں میں نے پہچان لیا کہ وہی حق ہے، جو (سیدنا)صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سمجھا اور کیا۔ ‘‘(بہارِ شریعت ،ج۱،حصہ ۵،ص ۸۷۰)
زکوٰۃ کب فرض ہوئی؟
زکوٰۃ2ہجری میں روزوں سے قبل فرض ہوئی ۔ (الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ،ج۳،ص۲۰۲)
زکوٰۃ کی فرضیت کا انکارکرنا کیسا؟
زکوٰۃ کا فرض ہونا قرآن سے ثابت ہے ،اس کا اِنکار کرنے والا کافر ہے ۔ (ماخوذ ازالفتاویٰ الھندیۃ،کتاب الزکوٰۃ ،الباب الاول،ج۱،ص۷۰ ۱)

’’ غمِ مال سے بچا یاالٰہی ‘‘کے سولہ حُرُوف کی
نسبت سے زکوٰۃ ادا کرنے کے16 فضائل وفوائد

(1)تکمیل ایمان کا ذریعہ
زکوٰۃ دینا تکمیل ِ ایمان کا ذریعہ ہے جیسا کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔‘‘
(الترغیب والترھیب ،کتاب الصدقات ،باب الترغیب فی ادائِ الزکوٰۃ،الحدیث۱۲، ج۱، ص۳۰۱ )
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:’’جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو اسے لازم ہے کہ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے۔‘‘(المعجم الکبیر ،الحدیث ۱۳۵۶۱،ج۱۲،ص۳۲۴)
(2)رحمت ِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی برسات
زکوۃ دینے والے پر رحمتِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کی چھماچھم برسات ہوتی ہے۔ سورۃُ الاعراف میں ہے :
وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ (پ۹،الاعراف۱۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لئے لکھ دوں گا جو ڈرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ۔
(3)تقویٰ وپرہیزگاری کا حصول
زکوٰۃ دینے سے تقویٰ حاصل ہوتا ہے ۔قرآنِ پاک میں مُتَّقِیْن کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی بیان کی گئی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :
وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳) (پ۱،البقرۃ:۳) ترجمۂ کنزالایمان:اورہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں
(4)کامیابی کا راستہ
زکوٰۃ دینے والا کامیاب لوگوں کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں فلاح کو پہنچنے والوں کا ایک کام زکوٰۃ بھی گنوایا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ(۱) الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ(۲) وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ(۳)وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ(۴) (پ ۱۸،المؤمنون ۱تا۴)
ترجمۂ کنزالایمان :بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں۔
(5)نصرت ِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ کا مستحق
اللّٰہ تعالیٰ زکوۃادا کرنے والے کی مدد فرماتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :
وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ(۴۰)اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِؕ-وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ(۴۱) (پ ۱۷،الحج:۴۰،۴۱)
ترجمۂ کنزالایمان :اور بیشک اللہ ضرور مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک ضرور اللہ قدرت والا غالب ہے،وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں قابو دیں تو نماز برپا رکھیں اور زکوٰۃ دیں اور بھلائی کا حکم کریں اور برائی سے روکیں اور اللہ ہی کے لئے سب کاموں کا انجام۔
(6)اچھے لوگوں میں شمارہونے والا
زکوۃادا کرنا اللہ کے گھروں یعنی مساجد کو آباد کرنے والوں کی صفات میں سے ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓىٕكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ(۱۸) (پ۱۰،التوبۃ: ۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان :اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیںاور اللہ کے سوا کسی سے نہیں `ڈرتے توقریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں ۔
(7)اسلامی بھائیوں کے دل میں خوشی داخل کرنے کا ثواب
زکوٰۃ کی ادائیگی سے غریب اسلامی بھائیوں کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور ان کے دل میں خوشی داخل ہوتی ہے ۔
(8) اسلامی بھائی چارے کا بہترین اظہار
زکوٰۃ دینے کا عمل اخوت ِ اسلامی کی بہترین تعبیر ہے کہ ایک غنی مسلمان اپنے غریب اسلامی بھائی کو زکوۃ دے کر معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ مہیا کرتاہے ۔ نیز غریب اسلامی بھائی کا دل کینہ وحسد کی شکارگاہ بننے سے محفوظ رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کے غنی اسلامی بھائی کے مال میں اس کا بھی حق ہے چنانچہ وہ اپنے بھائی کے جان ،مال اور اولاد میں برکت کے لئے دعاگو رہتا ہے ،نبی پاک ،صاحبِ لولاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:’’بیشک مؤمن کیلئے مؤمن مثل عمارت کے ہے،بعض بعض کو تقویت پہنچاتا ہے۔‘‘(صَحِیْحُ الْبُخَارِیْ،کتاب الصلوۃ،باب تشبیک الاصابع…الخ،الحدیث۴۸۱،ج۱،ص۱۸۱)
(9)فرمان ِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا مصداق
زکوٰۃمسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ مضبوط بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے جس سے اسلامی معاشرے میں اجتماعیت کو فروغ ملتا ہے اور امدادِباہمی کی بنیاد پر مسلمان اپنے پیارے آقا مدینے والے مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم کے اس فرمانِ عظیم کا مصداق بن جاتے ہیں :مسلمانوں کی آپس میں دوستی اوررحمت اور شفقت کی مثال جسم کی طرح ہے ،جب جسم کا کوئی عضو بیمار ہو تا ہے تو بخار اور بے خوابی میں سارا جسم اس کا شریک ہو تا ہے ۔
(صحیح مسلم ،کتاب البر والصلۃوالآداب،باب تراحم المؤمنین ۔۔الخ،الحدیث۲۵۸۶،ص۱۳۹۶)
(10)مال پاک ہوجاتا ہے
زکوٰۃ دینے سے مال پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم نے فرمایا:’’اپنے مال کی زکوٰۃ نکال کہ وہ پاک کرنے والی ہے ،تجھے پاک کردے گی ۔‘‘ ( مسندللامام احمد بن حنبل،مسند انس بن مالک ،الحدیث ۱۲۳۹۷،ج۴،ص۲۷۴)
(۱۱)بُری صفات سے چھٹکارا
زکوٰۃ دینے سے لالچ وبخل جیسی بُری صفات سے (اگر دل میں ہوں تو)چھٹکارا پانے میں مدد ملتی ہے اور سخاوت وبخشش کا محبوب وصف مل جاتا ہے ۔
(12)مال میں برکت
زکوٰۃ دینے والے کا مال کم نہیں ہوتا بلکہ دنیا وآخرت میں بڑھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۳۹) (پ۲۲،سبا:۳۹ )
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا۔‘‘
ایک مقام پر ارشادہوتا ہے :
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) (پ۳،البقرۃ:۲۶۱،۲۶۲)
ترجمۂ کنزالایمان:ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیںسات بالیں،ہربال میں سودانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے ، وہ جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ،پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ (انعام)ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم ۔
پس زکوٰۃ دینے والے کو یہ یقین رکھتے ہوئے خوش دلی سے زکوٰۃ دینی چاہئیے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بہتر بدلہ عطا فرمائے گا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے:’’صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا ۔‘‘(المعجم الاوسط ،الحدیث ۲۲۷۰،ج۱،ص۶۱۹)
اگرچہ ظاہری طور پر مال کم ہوتا لیکن حقیقت میں بڑھ رہا ہوتا ہے جیسے درخت سے خراب ہونے والی شاخوں کو اُتارنے میں بظاہر درخت میں کمی نظر آرہی ہے لیکن یہ اُتارنا اس کی نشوونما کا سبب ہے ۔ مُفسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان فرماتے ہیں ،زکوٰۃ دینے والے کی زکوٰۃ ہر سال بڑھتی ہی رَہتی ہے۔ یہ تجرِبہ ہے۔ جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہِر بوریاںخالی کر لیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے۔ گھر کی بوریاں چوہے، سُرسُری وغیرہ کی آفات سے ہلاک ہو جاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صَدَقہ نکلتا رہے اُس میں سے خرچ کرتے رہو ، ان شاءَاللہ عَزَّوَجَلَّ بڑھتا ہی رہے گا،کُنویں کا پانی بھرے جاؤ ، تو بڑھے ہی جائے گا۔( مرأۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ج ۳ ص ۹۳)
(13) شر سے حفاظت
زکوٰۃ دینے والا شر سے محفوظ ہوجاتا ہے جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کا فرمانِ عظمت نشان ہے: ’’جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کردی بے شک اللہ تعالیٰ نے اس سے شر کو دور کردیا ۔‘‘
(المعجم الاوسط،باب الالف من اسمہ احمد،الحدیث،۱۵۷۹،ج۱،ص۴۳۱)
(14)حفاظت ِ مال کا سبب
زکوٰۃ دینا حفاظت ِ مال کا سبب ہے جیسا کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:’’اپنے مالوں کو زکوۃ دے کر مضبوط قلعوں میں کر لو اور اپنے بیماروں کا علاج خیرات سے کرو۔‘‘
(مراسیل ابی داؤد مع سن ابی داؤد ،باب فی الصائم یصیب اھلہ،ص۸ )
(15)حاجت روائی
اللہ تعالیٰ زکوٰۃ دینے والوں کی حاجت روائی فرمائے گا جیسا کہ نبی مُکَرَّم، نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا :’’جو کسی بندے کی حاجت روائی کرے اللہ تعالیٰ دین و دنیا میں اس کی حاجت روائی کرے گا۔‘‘
(صحیح مسلم ،کتاب الذکر والدعائ،باب فضل الاجتماع۔۔۔۔الخ، الحدیث۲۶۹۹، ص۱۴۴۷)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:’’جو کسی مسلمان کودنیاوی تکلیف سے رہائی دے تو اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبت دور فرمائے گا ۔‘‘ (جامع الترمذی ،کتاب الحدود،باب ماجاء فی السترعلی المسلم،الحدیث، ج۳، ص۱۱۵)
(16)دُعائیں ملتی ہیں
غریبوں کی دعائیں ملتی ہیں جس سے رحمتِ خداوندی اور مدد الہٰی عَزَّوَجَلَّ حاصل ہوتی ہے جیسا کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّمنے ارشاد فرمایا:’’تم کو اللہ تعالیٰ کی مدد اور رزق ضعیفوں کی برکت اور ان کی دعاؤں کے سبب پہنچتا ہے ۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب الجہاد،باب عن استعان بالضعفائ،۔۔۔الخ، الحدیث،۲۸۹۶، ج۲،ص۲۸۰)

’’عذابِ جہنم ‘‘کے آٹھ حُرُوف کی مناسبت
سے زکوٰۃ نہ د ینے کے 8نقصانات
زکوٰۃ کی عدم ادائیگی کے متعدد نقصانات ہیں جن میں چند یہ ہیں :
(1) ان فوائد سے محرومی جو اسے ادائیگی ٔ زکوٰۃ کی صورت میں مل سکتے تھے ۔
(2) بخل یعنی کنجوسی جیسی بـُری صفت سے(اگر کوئی اس میں گرفتار ہوتو)چھٹکارا نہیں مل پائے گا ۔ پیارے آقا ،دوعالم کے داتا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم کا فرمانِ خبردار ہے : ’’سخاوت جنت میں ایک درخت ہے جو سخی ہوا اس نے اس درخت کی شاخ پکڑ لی ،وہ شاخ اسے نہ چھوڑے گی یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کر دے اور بخل آگ میں ایک درخت ہے ،جو بخیل ہوا ،اس نے اس کی شاخ پکڑی ،وہ اسے نہ چھوڑے گی ،یہاں تک کہ آگ میں داخل کر ے گی ۔‘‘
(شعب الایمان ،باب فی الجود ِوالسخائ،الحدیث،۱۰۸۷۷،ج۷،ص۴۳۵)
(3)مال کی بربادی کا سبب ہے جیسا کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم فرماتے ہیں :’’خشکی وتری میں جو مال ضائع ہوا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے تلف ہوا ہے ۔‘‘
مجمع الزوائد،کتاب الزکوٰۃ،باب فرض الزکوٰۃ،الحدیث۴۳۳۵،ج۳،ص۲۰۰)
ایک مقام پر ارشاد فرمایا:’’زکوۃ کا مال جس میں ملا ہوگا اسے تباہ وبرباد کردے گا ۔‘‘
(شعب الایمان،باب فی الزکوٰۃ،فصل فی الاستعفاف،الحدیث۳۵۲۲،ج۳،ص۲۷۳)
صدر الشریعہ ،بدرالطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی(اَ لْمُتَوَفّٰی۱۳۶۷ھ) اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : بعض ائمہ نے اس حدیث کے یہ معنی بیان کیے کہ زکاۃ واجب ہوئی اور ادا نہ کی اور اپنے مال میں ملائے رہا تو یہ حرام اُس حلال کو ہلاک کر دے گا اور امام احمد (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )نے فرمایا کہ معنے یہ ہیں کہ مالدار شخص مالِ زکاۃ لے تویہ مالِ زکاۃ اس کے مال کو ہلاک کر دے گا کہ زکاۃ تو فقیروں کے لیے ہے اور دونوں معنے صحیح ہیں۔(بہارشریعت،ج۱،حصہ ۵،ص۸۷۱)
(4)زکوٰۃادا نہ کرنے والی قوم کو اجتماعی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے فرمایا:’’جوقوم زکوٰۃ نہ دے گی اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے قحط میں مبتلاء فرمائے گا ۔‘‘
(المعجم الاوسط ،الحدیث۴۵۷۷،ج۳،ص۲۷۵)
ایک اورمقام پر فرمایا:’’ جب لوگ زکوٰۃ کی ادا ئیگی چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ بارش کو روک دیتا ہے اگر زمین پر چوپا ئے مو جود نہ ہو تے تو آسمان سے پا نی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا ۔‘‘
(سنن ابن ماجہ ،کتاب الفتن،باب العقوبات،الحدیث۴۰۱۹،ج۴،ص۳۶۷)
(5) زکوٰۃ نہ دینے والے پر لعنت کی گئی ہے جیسا کہ حضرت سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :’’زکوۃ نہ دینے والے پر رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّمنے لعنت فرمائی ہے ۔‘‘
(صَحِیْحُ ابْنِ خُزَیْمَۃ،کتاب الزکاۃ،باب جماع ابواب التغلیظ،ذکر لعن لاوی…الخ،الحدیث ۲۲۵۰،ج۴،ص۸)
(6)بروزِقیامت یہی مال وبال جان بن جائے گا ۔سورۂ توبہ میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴) یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْؕ-هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ(۳۵) (پ۱۰،التوبۃ:۳۴،۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوشخبری سناؤدرد ناک عذاب کی جس دن وہ تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں پھر اس سے داغیں گے ان کی پیشانیاںاورکروٹیں اور پیٹھیں یہ ہے وہ جو تم نے اپنے لئے جوڑ کر رکھا تھا اب چکھو مزا اس جوڑنے کا۔
اللّٰہ    عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن وہ مال گنجے سانپ کی صورت میں کر دیا جائے گا جس کے سر پر دو چتیاں ہوں گی (یعنی دو نشان ہوں گے )، وہ سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ۔پھر اس (یعنی زکوٰۃ نہ دینے والے )کی باچھیں پکڑے گا اور کہے گا : ’’میں تیرا مال ہوں،میں تیرا خزانہ ہوں ۔‘‘ اس کے بعد نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلّم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی :
وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْؕ-سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-           (پ۴، اٰل عمران:۱۸۰ )
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ، ہرگز اسے اپنے لئے اچھا نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لئے برا ہے عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا ۔(صحیح البخاری،کتاب الزکوٰۃ ، باب اثم مانع الزکوٰۃ،الحدیث۱۴۰۳،ج۱،ص۴۷۴)
(7) حساب میں سختی کی جائے گی جیسا کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم نے فرمایا:’’فقیر ہر گز ننگے بھوکے ہونے کی تکلیف نہ اٹھائیں گے مگر اغنیاء کے ہاتھوں ، سن لو ایسے مالداروں سے اللہ تعالیٰ سخت حساب لے گا اور انہیں درد ناک عذاب دے گا ۔‘‘(مجمع الزوائد،کتاب الزکوٰۃ،باب فرض الزکوٰۃ،الحدیث۴۳۲۴،ج۳،ص۱۹۷)
(8) عذاب ِ جہنم میں مبتلا ہوسکتا ہے ۔حضور اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّم نے کچھ لوگ دیکھے جن کے آگے پیچھے غرقی لنگوٹیوں کی طرح کچھ چیتھڑے تھے اور جہنم کے گرم پتھر اور تھوہر اور سخت کڑوی جلتی بدبو دارگھاس چوپایوں کی طرح چرتے پھرتے تھے۔ جبرائیل امین علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ عرض کی : یہاں پر مالوں کی زکوٰۃ نہ دینے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں کیا ،اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں فرماتا ۔(الزواجر ،کتاب الزکوٰۃ،الکبیرۃ السابعۃ،الثامنۃ والعشرون۔۔۔۔الخ،ج۱،ص۳۷۲)
ایک مقام پر نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلّمنے فرمایا:زکوۃ نہ دینے والا قیامت کے دن دوزخ میں ہوگا ۔
(مجمع الزوائد ،کتاب الزکوٰۃ،باب فرض الزکوۃ،الحدیث۴۳۳۷،ج۳،ص۲۰۱)
ایک اور مقام پر فرمایا:’’دوزخ میں سب سے پہلے تین شخص جائیں گے ان میں سے ایک وہ مالدار کہ اپنے مال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق ادا نہیں کرتا۔‘‘ (صحیح ابن خزیمہ، کتاب الزکوٰۃ،باب لذکر ادخال مانع الزکوۃ النار۔۔۔۔الخ ،الحدیث۲۲۴۹،ج۴،ص۸ ملخصاً)

زکوٰۃ کو زکوٰۃ کہنے کی وجہ
زکوٰۃ کا لُغوی معنی طہارت ، افزائش (یعنی اضافہ اور برکت) ہے ۔ چونکہ زکوٰۃ بقیہ مال کے لئے معنوی طور پر طہارت اور افزائش کا سبب بنتی ہے اسی لئے اسے زکوٰۃ کہا جاتا ہے۔(الدرالمختاروردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ،ج۳،ص۲۰۳ملخصاً)
زکوٰۃ کی تعریف
زکوٰۃ شریعت کی جانب سے مقرر کردہ اس مال کو کہتے ہیں جس سے اپنا نفع ہر طرح سے ختم کرنے کے بعد رضائے الہٰی عَزَّوَجَلَّ کے لئے کسی ایسے مسلمان فقیر کی ملکیت میں دے دیا جائے جو نہ تو خود ہاشمی ۱؎ ہو اور نہ ہی کسی ہاشمی کا آزاد کردہ غلام ہو ۔ (الدرالمختار،کتاب الزکوٰۃ،ج۳،ص۲۰۴،۲۰۶ ملخصاً)
۱؎ : بنی ہاشم سے مرادحضرت علی وجعفر وعقیل اور حضرت عباس وحارث بن عبدا لمطلب کی اولا دیں ہیں ۔ان کے علا وہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اِعانت نہ کی مثلاًابولہب کہ اگرچہ یہ کافر بھی حضرت عبد المطلب کا بیٹا تھا مگر اس کی اولا دیں بنی ہاشم میں شمار نہ ہو ں گی۔(بہارشریعت،ج۱،حصہ ۵ ،ص ۹۳۱)
زکوٰۃ کی اقسام
زکوٰۃ کی بنیادی طور پر 2قسمیں ہیں۔
(۱)مال کی زکوٰۃ (۲)اَفراد کی زکوٰۃ( یعنی صدقۂ فطر)
مال کی زکوٰۃ کی مزید دو قسمیں ہیں :
(1)سونے، چاندی کی زکوٰۃ ۔
(2)مالِ تجارت اور مویشیوں ، زراعت اور پھلوں کی زکوٰۃ(یعنی عشر)۔
(ماخوذ از بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع ،کتاب الزکوٰۃ ،ج۲،ص۷۵)
زکوٰۃ کس پرفرض ہے؟
زکوٰۃ دیناہر اُس عاقل، بالغ اور آزاد مسلمان پر فرض ہے جس میں یہ شرائط پائی جائیں :
(1) نصاب کا مالک ہو ۔
(2) یہ نصاب نامی ہو ۔
(3) نصاب اس کے قبضے میں ہو ۔
(4) نصاب اس کی حاجت ِ اصلیہ(یعنی ضروریاتِ زندگی)سے زائد ہو۔
(5) نصاب دَین سے فارغ ہو(یعنی اس پر ایسا قرض نہ ہو جس کا مطالبہ بندوں کی جانب سے ہو ،کہ اگر وہ قرض ادا کرے تو اس کا نصاب باقی نہ رہے ۔)
(6) اس نصاب پر ایک سال گزر جائے ۔
مالک ِ نصاب ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا ، یا ساڑھے باون تولے چاندی ، یا اتنی مالیت کی رقم ، یا اتنی مالیت کا مال ِ تجارت یا اتنی مالیت کا حاجاتِ اصلیہ (یعنی ضروریاتِ زندگی) سے زائد سامان ہو ۔(ماخوذ از بہارِ شریعت، ج۱، حصّہ۵، ص۹۰۲تا۹۰۵ ، ۹۲۸)
کتنی زکوٰۃ دینا ہوگی؟
نصاب کا چالیسواں حصہ (یعنی% 2.5) زکوٰۃ کے طور پر دینا ہوگا۔(فتاوٰی امجدیہ ،ج۱،ص ۳۷۸)
اَموالِ زکوٰۃ
زکوٰۃ تین قسم کے مال پر ہے۔
(۱) سونا چاندی۔(کرنسی نوٹ بھی انہی کے حکم میں ہیں بشرطیکہ ان کارواج اور چلن ہو۔)
(۲) مالِ تجارت۔
(۳) سائمہ یعنی چرائی پر چُھوٹے جانور۔
(الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الزکاۃ، الباب الأول، ج۱، ۱۷۴۔ فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ، ج۱۰، ص۱۶۱،۔ بہارشریعت ،ج۱،حصہ۵،ص۸۸۲،مسئلہ ۳۳)
سونے چاندی کا نِصاب
سونے کا نصاب بیس مثقال یعنی ساڑھے سات تولے ہے،جبکہ چاندی کا نصاب دو سودرہم یعنی ساڑھے باون تولے ہے۱؎ ۔(بہارشریعت،ج۱،حصہ ۵،ص۹۰۲ )
۱؎:سُناروں کے مطابق ساڑھے سات تولہ سونا میں تقریباً87 گرام، 48ملی گرام ہوتے ہیں اور ساڑھے باون تولہ چاندی تقریباً 612گرام ،41ملی گرام کے برابر ہے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا :’’جب تمہا رے پاس دوسو درہم ہو جا ئیں اور ان پر سال گزر جائے تو ان پر پا نچ درہم ہیں اور سونے میں تم پر کچھ نہیں ہے یہاں تک کہ بیس دینار ہو جا ئیں۔جب تمہا رے پاس بیس دینا ر ہو جا ئیں اور ان پر سال گزر جا ئے تو ان پر نصف دینا ر زکوٰۃ ہے ۔‘‘
(سنن ابی داؤد ،کتاب الزکاۃ،باب فی زکاۃ السائمۃ،الحدیث۱۵۷۳،ج۲،ص۱۴۳)
کتنی زکوٰۃ دینا ہوگی؟
نصاب کا چالیسواں حصہ (یعنی% 2.5) زکوٰۃ کے طور پر دینا ہوگا۔(فتاوٰی امجدیہ ،ج۱،ص ۳۷۸)
سال گزرنے میں قَمری(یعنی چاند کے)مہینوں کا اعتبار ہوگا ۔شمسی مہینوں کا اعتبار حرام ہے ۔(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ مُخَرَّجَہ،ج۱۰،ص۱۵۷)

صدقہ فطر
بعد ِ رمضان نمازِ عید کی ادائیگی سے قبل دیا جانے والا صدقہ واجبہ ، صدقہ فطر کہلاتا ہے ۔ خلیلِ ملّت حضرت علامہ مفتی محمد خلیل خان برکاتی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیںـ : ’’ صدقہ فطردراصل رمضان المبارک کے روزوں کا صدقہ ہے تاکہ لغو اور بے ہودہ کاموں سے روزے کی طہارت ہو جائے اور ساتھ ہی غریبوں، ناداروں کی عید کا سامان بھی اور روزوں سے حاصل ہونے والی نعمتوں کا شکریہ بھی ‘‘ (ہمارا اسلام، حصہ۷، ص۸۷)
’’ حُسَین ‘‘کے چار حُرُوف کی نسبت سے صدقہ فطر کی فضلیت کی 4روایات
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس آیت کریمہ کے بارے میں سوال کیا گیا
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴)وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵)
ترجمہ کنزالایمان : بے شک مراد کو پہنچا جوستھرا ہوا اور اپنے رب کا نام لے کرنماز پڑھی۔(پ۳۰، الاعلٰی : ۱۴، ۱۵)
تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ یہ آیت صدقہ فطر کے بارے میں نازل ہوئی ‘‘( صحیح ابن خزیمہ، الحدیث ۳۹۷ ، ج ۴، ص ۹۰)
(2) سرکارِمدینہ منوّرہ، سردارِمکّہ مکرّمہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ بَرَکت نشان ہے : ’’جو تمہارے مالدار ہیں اللہ تعالیٰ (صدقہ فطردینے کی وجہ سے )انہیں پاک فرما دے گا اور جو تمہارے غریب ہیں تواللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں اس سے بھی زیادہ دے گا۔ ‘‘ (سنن ابی داود، کتاب الزکوٰۃ ، باب روی من ضاع من قمح، الحدیث۱۶۱۹، ج۲، ص۱۶۱)
(3) حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں، کہ ’’ صدقہ فطر ادا کرنے میں تین فضلتیں ہیں؛ پہلی روزے کا قبول ہونا، دوسری سکرات موت میں آسانی اور تیسری عذاب قبرسے نجات ‘‘ (المبسوط للسرخسی، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۲، ص۱۱۴ )
(4) حضرت سیدنا ابو خلدہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ِکہتے ہیں : کہ میں حضرت سیدنا ابو العالیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا کہ کل جب تم عید گاہ جاؤ، تو مجھ سے ملتے جانا۔ جب میں گیا تو مجھ سے فرمایا ’’کیا تم نے کچھ کھایا؟‘‘میں نے کہا : ’’ ہاں ‘‘ فرمایا : ’’ کیا تم نہا چکے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’ ہاں ‘‘ فرمایا : ’’ صدقہ فطر ادا کر چکے ہو؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’ ہاں صدقہ فطر اداکر دیا ہے ‘‘ فرمانے لگے : ’’ میں نے تمہیں اسی لیے بلایا تھا ‘‘ پھر آپ نے یہ آیت کریمہ (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴)وَ ذَكَرَ اسْمَ رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵)) تلاوت کی اور فرمایا : ’’ اہل مدینہ صدقہ فطر اورپانی پلانے سے افضل کوئی صدقہ نہیں جانتے تھے ‘‘ (تفسیرطبری ، ج۱۲، ص۵۴۷، رقم : ۳۶۹۹۲ )
صدقہ فطر کب مشروع ہوا؟
۲؁ ھ میں رمضان کے روزے فرض ہوئے اور اسی سال عید سے دو دن پہلے صدقہ فطرکا حکم دیا گیا۔
(الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۲ )
صدقۂ فطرکی ادائیگی کی حکمت
حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ نبی کریم ، رء وف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے روزوں کو لغو اور بے حیائی کی بات سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کو کھلانے کے لیے صدقۂ فطر مقرر فرمایا ۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الزکوٰۃ ، باب زکوٰۃ الفطر، الحدیث۱۶۰۹، ج۲، ص۱۵۷)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : یعنی فطرہ واجب کرنے میں 2حکمتیں ہیں ایک تو روزہ دارکے روزوں کی کوتاہیوں کی معافی۔ اکثر روزے میں غصہ بڑھ جاتا ہے تو بلاوجہ لڑ پڑتا ہے ، کبھی جھوٹ غیبت وغیرہ بھی ہو جاتے ہیں ، رب تعالیٰ اس فطرے کی برکت سے وہ کوتاہیاں معاف کر دے گا کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔دوسرے مساکین کی روزی کا انتظام۔(مرأۃ المناجیح، ج۳، ص۴۳)
صدقۂ فطر کا شرعی حکم
صدقۂ فطر دینا واجب ہے ۔(الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۲) صحیح بخاری میں عبداﷲ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسلمانوں پر صدقۂ فطرمقرر کیا۔
(صحیح البخاري، ، کتاب الزکوٰۃ، باب فرض صدقۃ الفطر، الحدیث : ۱۵۰۳، ج۱، ص۵۰۷۔ ملخصا)
صدقۂ فطر کس پر واجب ہے ؟
صدقۂ فطر ہر اس آزاد مسلمان پر واجب ہے جو مالک ِ نصاب ہو اوراس کانصاب حاجت ِ اصلیہ سے فارغ ہو ۔(ما خوذ ازالدر المختار، کتاب الزکوٰۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۶۵)مالِکِ نِصاب مَرد اپنی طرف سے ، اپنے چھوٹے بچّوں کی طرف سے اور اگر کوئی مَجْنُون (یعنی پاگل )اولاد ہے (چاہے پھر وہ پاگل اولاد بالِغ ہی کیوں نہ ہو)تو اُس کی طرف سے بھی صَدَقَۂِ فِطْر ادا کرے ۔ہاں ! اگر وہ بچّہ یامَجْنُونخود صاحِبِ نِصاب ہے تو پھراُ س کے مال میں سے فِطْرہ اداکردے ۔
(الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲)
وجوب کا وقت
عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے ، لہٰذا جو شخص صبح ہونے سے پہلے مر گیا یاغنی تھا فقیر ہوگیا یا صبح طلوع ہونے کے بعد کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب نہ ہوا اور اگر صبح طلوع ہونے کے بعد مرا یا صبح طلوع ہونے سے پہلے کافر مسلمان ہوا یا بچہ پیدا ہوا یا فقیر تھا غنی ہوگیا تو واجب ہے ۔ (الفتاوی الھندیۃ، کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقۃ الفطر، ج۱، ص۱۹۲)
صدقۂ فطر کی ادائیگی کا وقت
بہتر یہ ہے کہ عید کی صبح صادق ہونے کے بعد اور عید گاہ جانے سے پہلے ادا کر دے ۔ (الدرالمختار، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج۳، ص۳۷۶)
صدقۂ فطر کی مقدار
ہر رمضان المبارک میں اس کی مقدار اوقات صیام کے کیلنڈر میں واضع کر دی جاتی ہے۔

صدقہ نافلہ
صدقات نافلہ وہ صدقات ہیں جو محض خدا کی رضا کے لیے صرف کیے جاتے ہیں۔ ان کے مصرفات کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ انہیں مستحقین کی امداد سے لے کر مسجد کی تعمیر اور کسی بھی نیک کام کیلئے استعمال میں لایاجا سکتا ہے۔ شریعت مطہرہ نے کسی کو بھی ان کے جواز سے خارج نہیں کیا۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ یہ تصور کہ سادات کیلئے صدقہ جائز نہیں ہے، اس کا اطلاق صرف صدقات واجبہ یعنی زکوٰۃ و عشر پر ہوتا ہے۔ جہاں تک نفلی صدقات کا تعلق ہے وہ سید ہو یا غیر سید، مسجد ہو یا مدرسہ، یا فلاحی نوعیت کا کوئی بھی نیک کام ہر ایک پر انہیں خرچ کرنا بہمہ وجوہ جائز ہے اور شریعت نے اس سلسلے میں کوئی قد غن نہیں لگائی۔ احیائے اسلام، تبلیغ و دعوت دین، مشن اور جہاد سے متعلق امور اور ان لوگوں کی ضروریات کی کفالت جنہوں نے خود کو دین کیلئے وقف کر دیا ہے ان سارے کاموں کے مصارف نفلی صدقات کے ذریعے پورے کیے جا سکتے ہیں۔ اس کا جواز قرآن حکیم میں نص قطعی سے فراہم ہوتا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے :
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِيْلِ اﷲِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ يَحْسَبُهُمْ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعٰـفُّفِ تَعْرِفهُمْ بِسِيْمٰهُم لَا يَسْئَلُوْنَ النَّاسِ اِلْحَافًا (القرآن، البقرہ، 2 : 273)
’’(صدقات) ان فقراء کیلئے ہیں جو اللہ کی راہ میں محصور کیے گئے ہیں اور زمین میں پھرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کے سوال نہ کرنے کی بنا پر انجان انہیں مالدار تصور کرتے ہیں۔ ان کی حالت ان کے چہروں سے پہچانی جا سکتی ہے۔ وہ لوگوں سے گڑگڑا کر سوال نہیں کرتے۔‘‘
یہ بات ذہن میں مستحضر رہے کہ نصاب کی شرط صرف صدقات واجبہ کیلئے ہوتی ہے جب کہ صدقات نافلہ کسی شرط اور حد سے مشروط نہیں۔ ہر کوئی جتنا چاہے بغیر کسی روک ٹوک کے راہ خدا میں خرچ کر سکتا ہے جس کے پاس زیادہ مال ہے وہ زیادہ اور جس کے پاس کم مال ہے وہ کم خرچ کرے۔ غریب بھی اپنی وسعت و استعداد کے مطابق اپنی ضرورت سے بچا کر خدا کی رضا کیلئے نکال سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے اسلاف نے ایثار، بے نفسی اور قربانی کی ایسی تابناک مثالیں قائم کیں ہیں کہ تاریخ اسلام کے اورق ان کی تابانی سے اب بھی جگمگا رہے ہیں۔
شیر خدا سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہ کی شان میں اللہ رب العزت نے یہ آیات بینات نازل فرمائیں :

وَ يُطْمِعُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّهِ مِسْکِينًا وَّ يَتِيْمًا وَّاَسِيْراً (القرآن، الدھر، 76 : 8)

’’اور وہ (نیک لوگ) اللہ کی محبت پر مسکینوں، یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔‘‘

ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ ایک مرتبہ حسنین کریمین رضی اللہ عنہم بیمار پڑ گئے۔ سیدہ عالم حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا اور حضرت علی کرم اللہ وجہ نے منت مانی کہ اگر ان کے جگر پارے شفایاب ہو گئے تو وہ تین روزے رکھیں گے۔ حسنین کریمین رضی اللہ عنہم کو خدا تعالیٰ نے صحت عطا فرما دی تو انہوں نے منت پوری کرنے کا ارادہ کیا۔ اتفاق سے اس وقت اس گھرانے میں سحری و افطاری کیلئے کچھ بھی موجود نہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہیں سے بقدر ضرورت جو ادھار لیے تاکہ نان شعیر سے روزے رکھے جا سکیں۔ ان پاک فطرت ہستیوں نے پہلا روزہ رکھ لیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے روزے کی افطاری کے لیے جَو کی روٹی اور چند کھجوروں کا اہتمام کیا۔ غروب آفتاب کے وقت وہ روزہ افطار کرنے ہی والے تھے کہ دروازے پر کسی سائل نے صدا دی کہ ’میں یتیم ہوں، کھانے کیلئے کچھ نہیں کچھ خدا کیلئے عطا کیجئے۔‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے روٹی اور کھجوریں اس سائل کو دے دیں اور سیدہ عالم کے ساتھ سادہ پانی سے روزہ افطار کر لیا۔ دوسرے دن پھر روزہ رکھ لیا۔ جب افطاری کا وقت آیا تو گھر کے سامنے سائل کی صدا بلند ہوئی کہ ’اے اہل بیت میں مسکین ہوں اور کئی روز سے بھوکا ہوں ﷲ کچھ عطا کیجئے۔‘ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے افطاری کا سارا سامان اٹھا کر اس سائل کے حوالے کر دیا اور پہلے روز کی طرح سادہ پانی سے روزہ افطار کر لیا۔ تیسرے دن بھی عین افطاری کے وقت دروازے پر دستک ہوئی اور سائل نے صدا دی کہ میں ایک اسیر ہوں کچھ واسطے خدا کھانے کو دیجئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس نہ موڑا اور ماحضر اس کی نذر کر دیا درآنحالیکہ یہ تیسری افطاری بھی سادہ پانی سے کی گئی تھی۔ خانوادہ سادات کی اس فیاضی، سخاوت اور ایثار پر حضرت جبریل امین علیہ السلام متذکرہ صدر آیات کی سورت میں، جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مدح بیان ہوئی ہے، محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں خوشنودی خدا کا پروانہ لے کر حاضر ہوئے۔

محمدیہ اسلامی مرکز و جامع مسجد میں زکوۃ و صدقات کے باکس موجود ہیں۔ جن میں آپ اپنی زکوۃ و صدقات ڈال کر ثواب دارین حاصل کریں۔ مزید رمضان المبارک کے آخر میں عید کے موقع پر زکوۃ ، فطرانہ اورصدقات کیلئے سٹال بھی لگائے جاتے ہیں ۔ آپ اس دن بھی اپنی زکوۃ ، فطرانہ اور صدقات جمع کروا سکتے ہیں۔  یہ زکوۃ ، فطرانہ و صدقات کی رقم پاکستانی کمیونٹی کے ضرورت مند لوگوں پر ہی خرچ کی جاتی ہے۔ کوئی بھی ضرورت مند پاکستانی امداد کیلئے نیچے دیئے ہوئے فارم کو ڈاؤنلوڈ کر سکتا ہے اور اس کو مکمل کرکے مسجد کے دفتر میں پہنچا دے۔ انشاء اللہ اس سے ضرور رابطہ کیا جائے گا۔ تمام ضرورت مندوں کے کوائف صیغہ راز میں رکھے جاتے ہیں۔

زکوۃ فارم

براہ مہربانی نیچے دیئے ہوئے لنک سے فارم ڈاؤنلوڈ کریں اور دفتر اوقات منگل سے اتوار تک صبح دس بجے سے شام چھ بجے تک دفتر میں پہنچائیں۔ انشاء اللہ آپ سے ضرور رابطہ کیا جائے گا۔

زکوۃ و صدقات ممبران

براہ مہربانی زکوۃ و صدقات سے متعلقہ تمام انفارمیشن اور مدد کیلئے مندرجہ ذیل ممبران سے رابطہ کریں۔

محمد حیات

محمد حیات

کوآرڈینیٹر

Cell : +39 329 8999770
میسیج بھیجیں
marriage@muhammadiah.net

انوارالحق

انوارالحق

تعلقات عامہ

Cell : +39 329 1920894

میسیج بھیجیں

email : pr@muhammadiah.net

آفتاب ابراھیم

آفتاب ابراھیم

خزانہ

Cell : +39 3203151839

میسیج بھیجیں

email : finance@muhammadiah.com

برائے رابطہ

محمدیہ اسلامی مرکز و جامع مسجد بریشیا اٹلی

Via Della Volta, 155
25124 Brescia Italy

+39 388 1181716

+39 030 349687

info@muhammadiah.com

میسیج بھیجیں

Pin It on Pinterest

Shares
Share This
Need Help? Chat with us