نکاح ۔ شادی

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا
يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ
(بخاری، کتاب النکاح، باب من لم یستطع الباءۃ فلیصم، ۳/۴۲۲، حدیث : ۵۰۶۶)

ترجمہ : اے نوجوانو!تم میں سے جو شخص نِکاح کرنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ نِکاح کرے کیونکہ یہ نگاہوں کو زیادہ جھکانے اور شرمگاہ کی زیادہ حِفاظَت کرنے والا ہے اور جو نِکاح کی اِسْتِطاعَت نہیں رکھتا تو روزے رکھے ، کیونکہ روزوں سے شہوت ٹوٹتی ہے ۔
نکاح حضرت سیّدنا آدم علٰی نَبِیِّنَا وعلیہ الصَّلٰوۃ وَالسَّلام سے شروع ہونے والی عظیم عبادت، نسلِ انسانی کے وجود میں آنے اور باقی رہنے کا ذریعہ اور صالحین و عابدین علیہ رحمۃ اللہ المُبِین کی پیدائش کا سبب ہے۔ نکاح اگر شریعت کے مطابق کیا جائے تو شرم و حیا کے حُصُول کے ساتھ ساتھ فراخ دستی اور خوشحالی کا سبب بھی ہے کہ حدیثِ پاک میں ہے:
اِلْتَمِسُوا الرِّزْقَ بِالنِّكَاحِ 

یعنی نکاح (شادی) کے ذریعے رزق تلاش کرو۔(جامع صغیر،ص98،حدیث: 1567)
حضرت علامہ عبدالرءُوف مناوی علیہ رحمۃ اللہ الہادِی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:جب شادی کی نیت اچھی ہو تو یہ نکاح برکت اور رزق میں وُسعَت کا سبب بنتا ہے۔(فیض القدیر،ج 2،ص198،تحت الحدیث:1567)
نکاح کا اعلانیہ طور پر، مسجد میں اور جمعہ کے دن ہونا مستحب ہے۔(الدرالمختار،ج 4،ص75)
نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا: 

اَعْلِنُوْا ھٰذَا النِّکَاحَ وَاجْعَلُوْہٗ فِیْ الْمَسَاجِدِ

یعنی نکاح کا اعلان کرو، اسے مساجدمیں منعقد کرو۔(ترمذی،ج 2،ص347،حديث:1091) حضرت مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ الحنَّان اس کے تحت فرماتے ہیں: فقہا فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ نکاح جمعہ کے دن بعد نمازِ جمعہ جامع مسجد میں تمام نمازیوں کے سامنے ہو تاکہ نکاح کا اعلان بھی ہوجائے اور ساتھ ہی جگہ اور وقت کی برکت بھی حاصل ہوجائے نیز نکاح عبادت ہے اور عبادت کے لئے عبادت خانہ یعنی مسجد موزوں ہے۔(مراٰۃالمناجیح،ج 5،ص39) 

حق مہر کتنا ہو؟:

مہر مقرر کرتے وقت بھی شریعت کی پاسداری کرنی چاہئے کہ ”کم سے کم مہر دس درہم (یعنی دو تولہ ساڑھے سات ماشہ (30.618گرام) چاندی یا اس کی قیمت) ہے، اس سے کم نہیں ہو سکتا، خواہ سکّہ ہو یا ویسی ہی چاندی یا اُس قیمت کا کوئی سامان۔“ (بہار ِشریعت ،ج2،ص64) 

مہر میں اگرچہ کثیر رقم مقرر کرنا بھی جائز ہے لیکن مناسب رقم مقرر کرنا شرعاً محمود (پسندیدہ) ہے کہ رسولِ بے مثال صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: 

خَیْرُہُنَّ اَیْسَرُہُنَّ صَدَاقاً

یعنی عورتوں میں سب سے بہتر وہ عورت ہے جس کا مہر بہت آسانی سے ادا کیا جائے۔(معجمِ کبیر،ج11،ص65، حدیث: 11100)
حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الرءُوف مناوی علیہ رحمۃ اللہ الہادِی اس کی شرح میں فرماتے ہیں: عورت کے مہر کا کم ہونا عورت کی برکت اور بہتری کی نشانی ہے اور یہ کامیاب نکاح کے لئے اچّھا شگون ہے۔(فیض القدیر،ج3،ص667، تحت الحدیث: 4117)

ولیمے کا کھانا:

نکاح کے شکرانے میں دعوتِ ولیمہ سنّت ہے۔ نبیِّ کریم ﷺ نے حضرت سَیِّدَتُنا صفیہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے نکاح کے بعد جو ولیمہ کیا اُس میں نہ گوشت تھا، نہ روٹی تھی بلکہ ولیمے کے کھانے میں کھجور اورگھی کا حلوہ تیار کیا گیا۔(بخاری،ج 3،ص86، حدیث:4213،ج1،ص148، حدیث: 371) دو عالَم کے مالک و مختار صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سَیِّدَتُنا زینب رضی اللہ تعالٰی عنہا کے نکاح پر پوری ایک بکری سے ولیمہ کیا۔ ایسا ولیمہ ازواجِ مطہرات میں سے کسی کا نہیں کیا۔(بخاری،ج 3،ص453، حدیث:5168) یعنی تمام ولیموں میں یہ بہت بڑا ولیمہ تھا کہ ایک پوری بکری کا گوشت پکا تھا۔(بہارِ شریعت،ج3،ص388) اس ولیمہ کے علاوہ باقی ولیموں میں چھوارے پنیر وغیرہ کھلائے گئے تھے۔(مراٰۃ المناجیح،ج5،ص73) اللہ عَزَّوَجَل ہمیں شادی کے تمام معاملات کو شریعت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

نکاح کیلئے بنیادی ضروریات

  1. دلہا اور دلہن دونوں کی طرف سے ایجاب و قبول کرنا۔
  2. چار بالغ اور سمجھدار گواہوں کا موجود ہونا۔
  3. دلہا کی طرف سے دلہن کو فوری طور پر مہر موجل یا غیر موجل یا دونوں کا مجموعہ ادا کرنا۔
  4. دلہا اور دلہن دونوں کی طرف سے والدین اور وکیل کا موجود ہونا۔ تحریری طور پرنکاح نامہ پر دلہا اور دلہن کا دستخط کرنا اور اس پر چار بالغ اور سمجھدار مسلمان گواہان کے دستخط کرنا۔ اس کے علاوہ تمام افراد جن کے نکاح نامہ پر دستخظ موجود ہوں انکے CODICE FISCALE کی کاپیاں بھی ضروری ہیں۔
  5. نکاح خواں کا خطبہ نکاح پیش کرنا۔
  6. براہ مہربانی نکاح سے کچھ دن پہلے تمام افراد جن کے دستخط نکاح فارم پر ضروری ہیں، ان کے ڈاکومینٹس مسجد کے دفترمیں پہنچائیں تاکہ نکاح نامہ فارم کو مکمل کیا جاسکے اور آپکو نکاح کی تاریخ دی جاسکے۔مزید معلومات کیلئے دفتر یا متعلقہ کمیٹی ممبران سے رابطہ کریں جن کے رابطہ نمبر نیچے درج کردیئے گئے ہیں۔

نوٹ : ہمارے نکاح نامہ کی اٹالین گورنمنٹ کے کسی آفس میں قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں۔ اسلئےاگر کوئی باقاعدہ اٹالین قانون کے مطابق شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے علاقہ کے متعلقہ کمیونے سے رابطہ کرنا چاہئے۔

نکاح ۔ شادی سے متعلقہ ممبران

براہ مہربانی نکاح ۔ شادی سے متعلقہ معاملات کیلئے مندجہ ذیل ممبران سے رابطہ کریں۔

محمد حیات

محمد حیات

کوآرڈینیٹر

Cell : +39 329 8999770
میسیج بھیجیں
marriage@muhammadiah.net

ساجد حیدر حسین شاہ

ساجد حیدر حسین شاہ

کوآرڈینیٹر

Cell : +39 3471517045
میسیج بھیجیں
email : media@muhammadiah.com

رخسار احمد

رخسار احمد

کوآرڈینیٹر

Cell : +39 3883784668
میسیج بھیجیں
email : marriage@muhammadiah.net

برائے رابطہ

محمدیہ اسلامی مرکز و جامع مسجد بریشیا اٹلی

Via Della Volta, 155
25124 Brescia Italy

+39 388 1181716

+39 030 349687

info@muhammadiah.com

میسیج بھیجیں

Pin It on Pinterest

Shares
Share This
Need Help? Chat with us